Jhang Jail Corruption Report

 

 

MULTAN: Chopper crash Pak Army’s Major Yasir and Captain Murtaza embraced Shahadat.

“Two army aviation pilots embraced martyrdom when their helicopter crashed during a night flying training mission due to a technical fault at Multan tonight,” the military said in a statement.

The ISPR identified the deceased pilots as Major Yasir and Captain Murtaza.

A senior military official told an international news agency  that a dust storm that hit the aviation base as the helicopter was taking off could have been a factor in the crash.

The official and the statement did not give the type of helicopter, but army has Russian and American helicopters in its fleet.

The accident comes as the Pakistani military carries out a major offensive in the dangerous tribal district of North Waziristan along the Afghan border, where Tehreek-i-Taliban Taliban (TTP) and al Qaeda-linked militants have taken refuge.

 

Major Muhammad Yasir S/O Mr Muhammad Nasir from Mohalla Gullab Wala Jhang City , got admission in Chenab College Jhang on 21.4.1994 in class 6 and left Chenab College Jhang in 2001 after passing his FSc (Pre Engineering). He embraced shahadat on Wednesday night during a routine mission in Cobra Helicopter at Multan. May his soul rest in peace in Jannat-ul-Firdos. He was son of the soul. We are proud of him.

شہید کی جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے
http://www.express.pk/story/265668Major Yasir Jhang .jpg (1) Major Yasir Jhang .jpg (2) Major Yasir Jhang .jpg (3) Major Yasir Jhang .jpg (4)

میر تقی میر :نہ کہیں مزار ہوتا (Dr. Ghulam Shabbir Rana, Jhang)

میر تقی میر :نہ کہیں مزار ہوتا

(Dr. Ghulam Shabbir Rana, Jhang)

تاریخ ،ثقافت اور تہذیب کے دوام کو پوری دنیا میں کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ اقوام و ملل کے وجود پر تو ابلق ایا م کے سموں کی گرد پڑ سکتی ہے اور ان کا نام و نشاں تک باقی نہیں رہتا مگر تہذیب کا معاملہ الگ ہے ۔تہذیب کی بقا در اصل انسانیت کی بقا سے منسلک ہے اگر تہذیب و ثقافت کے نشانات معدوم ہو جائیں تو اس خطے کے عوام کی تاریخ اور ارتقا کے بارے میں ابہام پیدا ہو جاتا ہے ۔یہ دور اپنے براہیمؑ کی تلاش میں ہے اور یہ جہاں ایک صنم کدے کی صورت ہے ۔

آج اقتضائے وقت کے مطابق جہد للبقا کی خاطر ہر قسم کے چیلنج کا پوری قوت سے جواب دینا از بس ضروری ہے یہی تہذیب و تمدن کا تقاضا بھی ہے اور زندہ اقوام کا شیوہ بھی یہی ہے ۔جو تہذیب و تمدن عصری آگہی کو پروان نہ چڑھا سکے اور جہد للبقا کی دوڑ میں اپنے وجود کا اثبات نہ کر سکے اس کی داستاں تک بھی داستانوں میں باقی نہیں رہتی ۔تاریخ کا ایک مسلسل عمل ہوا کرتا ہے ۔یہ تاریخ ہی ہے جس کے معجز نما اثر سے ہر عہد میں نسل نو کو تہذیب و ثقافت کا گنج گراں مایہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔تہذیب کا تحفظ اور اس کی شناخت انتہائی محنت ،دیانت ،لگن اور احساس ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے ۔اسی طرح اسے آنے والی نسلوں تک پہنچاناجہاں ذہنی بالیدگی کا مظہر ہے وہاں اس سے مستقبل کے متعد دنئے امکانات سامنے آتے ہیں ۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ کسی بھی قوم کے تاریخی اثاثے اور تہذیبی میراث کے تحفظ اور اس کوآنے والی نسلوں کو منتقل کرنے میں غفلت کی مہلک روش اپنانے سے ایسے گمبھیر نتائج سامنے آتے ہیں جن کے باعث پورا منظر نامہ ہی گہنا جاتا ہے اور اس کے بعد پتھر کے زمانے کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے ۔کروچے نے کہا تھا : ”تاریخ دو چیزوں کے ملاپ سے تشکیل پاتی ہے ۔ثبوت اور تنقید ،ماضی اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے ۔یہ نشانیاں محض بے حس ٹکڑے نہیں ہوتے ۔ان میں ماضی کے افکار اور ماضی کی فکر چھپی ہوئی ہوتی ہے ۔یہ ماضی کے ذہن و شعور کی عکاسی کرتے ہیں ۔ہم ان نشانیوں کو اس لیے محفوظ رکھتے ہیں تاکہ یہ مستقبل کے مورخ کے لیے ثبوت کے طور پرفراہم ہوں ۔“(1)

تہذیبی میراث کے زیاں کا ایک واقعہ اردو ادب میں بھی پیش آیاجب خدائے سخن میر تقی میر کی قبر کا نشان ناپید ہو گیا ۔میر تقی میر جو 1723میں آگرہ میں پیدا ہوئے ۔اپنے باپ کے انتقال کے بعد 1734میں دہلی پہنچے۔دہلی میں میر تقی میر کا قیام جس علاقے میں تھا اسے کوچہ چہل امیراں کے نام سے یاد کیا جاتا تھا جو بعد میں کوچہ چیلاں کہانے لگا ۔اس کے بعد یہ عظیم شاعر لکھنو کے نواب آصف الدولہ کی دعوت پر 1782میں دہلی کو خیرباد کہہ کر لکھنو پہنچا۔اردو شاعری کا یہ آفتاب لکھنو میں بروز جمعہ 21ستمبر 1810کو عدم کی بے کراں وادیوں میں اوجھل ہو گیا ۔ بعض روایات کے مطابق میر تقی میر کے جسد خاکی کو اکھاڑہ بھیم لکھنو کے ایک گوشے میں دفن کیا گیا ۔ا س کے بعد اس کی قبر کا نشاں بھی قضا نے مٹا دیا۔ڈاکٹر نثار احمد قریشی نے رالف رسل اور ڈاکٹر این میر ی شمل کے حوالے سے 1980میں ایک بار اپنے شاگردوں کو بتایا:

”اردو زبان کے نابغہ روزگار شاعر میر تقی میر نے 1782میں ذاتی مسائل اور معاشی مجبوریوں کے باعث جب لکھنو منتقل ہونے کا فیصلہ کیاتو یہاں ان کا قیام لکھنو کی ایک کم معروف آبادی ست ہٹی میں ہوا۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ آبادی ریذڈنسی اور رومی دروازے کے درمیانی علاقے میں ہوا کرتی تھی ۔اس کا محل وقوع اور رہن سہن لکھنو کے اس زمانے کے ترقی یافتہ علاقے سے قدرے کم معیار کا تھا ۔میر تقی میر نے ایک گونہ بے خودی کے حصول کی خاطر مے نوشی اختیار کی ۔دن رات کی بے خودی کے حصول کی تمنا ،ہجوم غم اور نا آسودہ خواہشات نے میر تقی میر پر جنونی کیفیت طاری کر دی ۔کثرت مے نوشی ،آلام روزگار کی مسموم فضا ،سیل زماں کے مہیب تھپیڑوں اور ہجوم غم نے بالآخر ان کی زندگی کی شمع بجھا دی ۔میر تقی میر کی وفات کے بعد ان کی تدفین ست ہٹی سے کچھ فاصلے پر واقع ایک قبرستان میں ہوئی جسے بھیم کا اکھاڑہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔اب یہ تمام آثار تاریخ کے طوماروں میں دب کر عنقا ہو چکے ہیں اور ان کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔“حقیقتوں کا خیال و خواب ہو جانا کس قدر روح فرسا اور اعصاب شکن المیہ ہے اس کے تصور ہی سے کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔سیماب اکبر آبادی نے کہا تھا :

بس اتنی سی حقیقت ہے فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے

نامور ماہر تعلیم ،دانش ور محقق اور ادیب رانا عبدالحمید خان جو 1926میں گورنمنٹ کالج جھنگ کے پرنسپل تھے وہ کالج کے طلبا اور اساتذہ کے ہمراہ دہلی ،لکھنو اور آگرہ کے مطالعاتی دورے پر گئے ۔اس دورے میں حاجی احمد بخش نے پرنسپل کی کار کے ڈرائیور کی حیثیت سے شرکت کی ۔میں نے 1980میں حاجی احمد بخش سے ایک انٹرویو کیا جس کا ملخص گورنمنٹ کالج جھنگ کے مجلہ ”کارواں “میں شائع ہو ا ۔اس سفر کا ذکر کرتے ہوئے حاجی احمد بخش نے بتایا:

”ہمارے ساتھ بیس طالب علم اور دو اساتذہ تھے ۔ان میں پروفیسر لال چند لالہ اور پروفیسر سردار پریم سنگھ بھی شامل تھے ۔رانا عبدالحمید کو میر تقی میر کی شاعری سے عشق تھا ۔دہلی ،آگرہ اجمیر اور علی گڑھ کے بعد جب ہم لکھنو پہنچے تو میر تقی میر کی قبر کی تلاش شروع ہوئی مگر اس کا کہیں اتا پتا نہ ملا۔مقامی باشندوں کی زبانی اتنا معلوم ہوا کہ قدیم زمانے میں جس علاقے کو بھیم کا اکھاڑہ کہاجاتا تھا اب اس کے آثار کہیں نہیں ملتے ۔“

حاجی محمد یوسف (ڈاکٹر عبدالسلام کے چچا زاد بھائی )کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے تھا ۔وہ ذاتی طور پر کئی مرتبہ لکھنو گئے۔وہ اردو کی کلاسیکی شاعری اور میر تقی میر کے اسلوب کے شیدائی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ میر کی لحد کے سرہانے بیٹھ کر آہستہ بول کر اپنے جذبات حزیں کا اظہار کریں اور اس لا فانی تخلیق کار کے حضور آنسوﺅں اور آہوں کا نذرانہ پیش کریں مگر انھیں بھی میر تقی میر کی آخری آرام گاہ کے بارے میں کوئی معلومات نہ مل سکیں ۔پہلی عالمی جنگ کے دوران میاں عبدالواحد لکھنو چھاونی میں تھے ان کے علاوہ محمد خان پوسٹ ما سٹر بھی اسی علاقے میں تعینات تھے وہ بھی میر تقی میر کی لحد کا کوئی اتا پتا معلوم نہ کر سکے ۔سردار باقر علی خان جو انڈین سول سروس میں اعلیٰ افسر تھے بعد میں ملتان کے کمشنر رہے انھوں نے کچھ عرصہ لکھنو میں گزارا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے عرصہ قیام لکھنو میں وہ میر تقی میر کی آخری آرام گاہ کا صحیح تعین کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔

ان کی اولاد اب جھنگ میں مقیم ہے ۔مجھے 1970میں ان سے ملنے کا موقع ملا جو چراغ سحری تھے ۔ان کی یادداشتوں کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جس علاقے میں بھیم کا اکھاڑہ بتایا جاتا ہے اس کا محل وقوع لکھنو شہر کے ریلوے سٹیشن کے قرب و جوار میںشمال کی سمت میں تھا ۔اس علاقے میں خشک میوے فروخت ہوتے تھے بالخصوص یہ مارکیٹ مونگ پھلی کی فروخت کے لیے مشہور تھی ۔گمان ہے کہ دریائے گومتی کے کنارے جو کچی آبادیا ں اس زمانے میں وجود میں آگئی تھیں یہ اس میں شامل ہو سکتا ہے ۔ جھنگ میں میر تقی میر کی یاد میں قائم ہونے والی ”بزم میر “جو 1900میں اس عظیم شاعر کے فکر و فن پر تحقیقی کام میں مصروف تھی ۔اس میں متعدد دانش ور شامل رہے ۔ان میں سے چند نام قابل ذکر ہیں جنھوں نے قابل قدر کام کیا ۔

سید عبدالباقی( عثمانیہ)،پروفیسر تقی الدین انجم (علیگ)،پروفیسر عبدالستار چاولہ ،ڈاکٹر سید نذیراحمد ،رانا سلطان محمود ،رانا عبدالحمید خان ، نامور ماہر تعلیم غلام علی چین ،میر تحمل حسین ،میاں اللہ داد ،الحاج سید غلام بھیک نیرنگ ، محمد شیر افضل جعفری ،کبیر انور جعفری ،یوسف شاہ قریشی (بار ایٹ لا)،رام ریاض ، پروفیسر محمد حیات خان سیال ،پروفیسر خلیل اللہ خان ،مہر بشارت خان ،دیوان احمد الیاس نصیب ،عاشق حسین فائق ،بیدل پانی پتی ،مرزا معین تابش اور سید جعفر طاہر سب نے مختلف اوقات میں میر تقی میر کی آخری آرام گاہ کے آثار معدوم ہو جانے کو ایک بہت بڑے تہذیبی زیاں سے تعبیر کیا ۔یہ بات تو سب نے تسلیم کی کہ جس جگہ پر میر تقی میر کو دفن کیا گیا تھا اب وہاں پر ریلوے لائن اور جنکشن موجود ہے جو نہ صرف بے مہری ءعالم کی دلیل ہے بلکہ اسے حالات کی ستم ظریفی بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ حساس شاعر جس نے اپنے سرہانے آہستہ بولنے کی استدعا کی اب وہ منوں مٹی کے نیچے پڑا بھاری بھرکم ریل گاڑیوں اور انجنوں کی چھک چھک کے شور میں دب چکا ہے ۔وہ بے مثال تخلیق کار جسے غالب ،ذوق اور متعد د شعرا نے اپنا پیش رو تسلیم کیا اور اس کے اسلوب کو ابد آشنا اور لائق تقلید قرار دیا اب اس کی قبر کا نشاں تک موجود نہیں ۔وہ یگانہ روزگار شاعر جس نے 13585اشعار پر مشتمل اپنے چھے دیوان لکھ کر اردو شاعری کی ثروت میں اضافہ کیا اور اردو ادب کو مقاصد کی رفعت میں ہم دوش ثریا کر دیا آج اس کا جسد خاکی لکھنو ریلوے سٹیشن اور ریلوے جنکشن کے شور محشر میںنو آبادیاتی دور میں برطانوی استبداد کے فسطائی جبر کے خلاف انصاف طلب ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میر کو اپنے بارے میں معلوم تھا زمانے کے حالات کس قدر تلخ صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ابلق ایام کے سموں کی گرد میں تمام واقعات اوجھل ہوجاتے ہیں اور حقائق خیال و خواب بن جاتے ہیں ۔اس دنیا میں دارا اور سکندر جیسے نامیوں کے نام و نشاں نہ رہے تو ایک شاعر کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہونا تخیل کی شادبی کے سوا کیا ہو سکتا ہے ۔وفات کے صرف چھے عشروں کے بعد ایک عظیم شاعر کی قبر کا نشان تک معدوم ہو جانالمحہءفکریہ ہے ۔

میرے تغیر حال پہ مت جا
اتفاقات ہیں زمانے کے

بعد مرنے کے میری قبر پہ آیا وہ میر
یاد آئی میرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ 1857کی ناکام جنگ آزادی کے بعد جب غاصب برطانوی تاجر تمام اخلاقی اور قانونی حدود سے تجاوز کر کے تاجور بن بیٹھے تو وہ تمام علامات اور نشانیاں جو اہل ہندوستان کے لیے بالعموم اور مسلمانوں کے لیے بالخصوص قابل احترام تھیں انھیں چن چن کر ان طالع آزما، مہم جو اور انسانیت سے عاری فاتحین نے نیست و نابود کر دیا ۔لکھنو شہر کے سٹیشن کے قریب چھٹی والا پل کے قریب ریلوے لائن کے درمیان ایک قبر کے آثار موجود تھے ۔آج سے کوئی اسی سال قبل اس مرقد کو مقامی باشندے شاہ افجشن کا مزا رخیال کرتے تھے ۔اسی مزار کے بارے میں ادبی حلقوں کی رائے یہ رہی کہ ہو نہ ہو یہی تو میر تقی میر کی قبر کا نشان بننے کے گمان کی ایک صور ت ہو سکتی ہے ۔ حیف صد حیف کہ اب اس مر قد کا بھی کوئی سراغ کہیں نہیں ملتا۔ اس طرح دل کی تسلی کی ایک موہوم صورت بھی نا پید ہو گئی ۔حال آں کہ میر تقی میر کی قبر تو 1857کے بعد برطانوی افواج کی بزدلانہ ، ظالمانہ اور جارحانہ خونیں واقعات کے فوری بعد مکمل طور پر منہد م کر دی گئی تھی ۔سرابوں میں بھٹکنے والوں کے لیے اب مزید کسی خوش فہمی کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔

میر تقی میر کی تمام زندگی مفلسی ،کس مپرسی ،پریشاں حالی اور درماندگی میں بسر ہوئی ۔ایک بیٹے ،بیٹی اور اہلیہ کی وفات سے میر تقی میر کا سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا ۔اس ہجوم یاس میں اس کے دل پر جو کوہ ستم ٹوٹا اس کے باعث اس کی زندگی کی تما م رتیں بے ثمر ہو کر رہ گئیں ۔میر تقی میر کے مرقد کا نشاں نا پید ہو جانادر اصل موت کے جان لیوا صدمات اور تقدیر کے نا گہانی آلام کے مسائل و مضمرات کی جانب توجہ دلاتا ہے ۔اس عالم آب و گل کی ہر ایک چیز کو فنا ہے ااور بقا صرف رب ذوالجلال کی ذات کو حاصل ہے ۔میر تقی میر کی شاعری اور اس کے الفاظ ہی اب اس کی یاد دلاتے رہیں گے ۔

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا             لہو آتا ہے جب نہیں آتا

مآخذ
(1)بہ حوالہ مبارک علی ڈاکٹر :تاریخ اور فلسفہ تاریخ ،فکشن ہاﺅس،لاہور ،اشاعت اول ،1993،صفحہ 214۔
Dr.Ghulam Shabbir Rana
Mustafa Abad Jhang City (Punjab -Pakistan)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جھنگ کا رانجھا

ویلنٹائن کا حال مجھ تک بھی بس کچھ سال پہلے ہی پہنچا ہے ورنہ وہ کافی عرصہ پہلے مر چکا تھا۔ مرنے کو تو ہر کوئی مر جاتا ہے۔ مرزا بھی مر گیا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے صاحباں بھی لیکن ویلنٹائن انوکھا ہے ، انوکھا ایسے کہ مرنے کو تو مر گیا مگر ہمارے ایمان داؤ پر لگا گیا۔ اب اصل قصہ نا جانے کیا رہا ہوگا ، لیکن ہم غریبوں سے نا جانے کیوں دشمنی اتارنے پر تلا ہوا تھا۔ہمارے ایک دوست کا تعلق ہیر رانجھا کے آبائی علاقے سے تھا جو کہ جھنگ میں واقع ہے ۔ جیسے میں نے تعارف کروایا، ان صاحب کا معروف تعارف تھا بھی یہی۔ شام ہوئی نہیں اور ہاسٹل کی چھت پر وہ جھوم جھوم کر اپنے قصبے کا حدود اربعہ اور وارث شاہ کی بیان کردہ لازوال داستان اس نیت سے سنا تے تھےکہ لوگوں کا محبت پر بھرم قائم رہے اور ہم تھے کہ سوچتے وہ نیمانا بھی کوئی محبت کا مارا ہے۔ آواز لاجواب، سر باکمال، ہم ایسے ڈوب جاتے جیسے شیرینی میں جلیبی تر رہتی ہو۔ اچھا بندہ تھا، محبت کی قدر کرتا تھا، شاعری بھی اسے پسند تھی اور گاہے بگاہے پنجابی ادب میں ہیر رانجھا کی داستان کی موجودگی کو اس کے لیے آب حیات بھی گردانتا تھا ۔ لیکن، نا جانے کیوں فروری شروع ہوتے ہی اس کی بھنویں چڑھ جاتی تھیں۔ ویلنٹائن کا نام لیا نہیں اور صاحب آپے سے باہر، اکثر فرماتے کہ ناجانے لوگ ایسے بھاؤلے کیوں ہو گئے ہیں کہ مغرب کی تقلید میں اپنا آپ بھول گئے۔ ہم گھنٹوں کڑھتے کہ ناجانے لوگ کیوں بھاؤلے ہو گئے۔ پھر مشہور زمانہ لڑمون مارکہ چائے پیتے اورصاحب کو اکیلا کڑھتا چھوڑ کر اگلی شام ہیر رانجھا کی داستان سنتے ۔

ایک بار تازہ تازہ چودہ فروری گذر کر شام کو ہیر رانجھا سنتے ہوئے بھائی صاحب سے سوال کیا، کیوں بھئی تمھیں ویلنٹائن ایک آنکھ نہیں بھاتا؟ سوال پوچھنے والے کا مقصد حسب معمول اسے تپا کر لطف حاصل کرنا تھا۔
اب صاحب نے موندھی آنکھیں کھولیں، حلق سے ہیر رانجھا کی داستان کے چلتے مصرعے کو ایک طرف رکھا اور تڑک کر بولے، “ابے بھوتنی کے! کیا یہ اسلام سے متصادم نظریات نہیں ہیں؟” بس اتنا کہا اور داستانِ ہیر رانجھا پر توجہ مرکوز کر دی۔

(جھنگ کا لفظی مطلب ہے (درختوں کا جھنڈ

جھنگ کو سب سے پہلے تقریبا 1288 ء میں رائے سیال نے آباد کیا۔ رائے سیال نے اس شہر کو اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاری کے کہنے پر آباد کیا۔ آہستہ آہستہ یہاں شاہ جلال بخاری کے پیروکاروں اور عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ جھنگ کا پہلا با قاعدہ سیال حکمران مل خان تھا۔ جس نے 1462 ء میں حکمرانی قائم کی اس کے بعد 360 سال تک مختلف سیال حکمران آتے رہے۔ سیال حکمران نے جھنگ کے ساتھ دیگر علاقوں کو بھی شامل کرکے جھنگ کو رقبے کے لحاظ سے وسعت دی۔ جھنگ کے آخری سیال حکمران احمد خان تھے جنہوں نے 1812 ء سے لیکر 1822 ء تک حکومت کی۔احمد خان کے بعد حکومت سکھوں کے قبضے میں آگئی جنہوں نے تقریبا 12 سال تک حکومت کی لیکن اس دوران برصغیر میں مختلف حملہ آوروں کی دست درازی سے دیگر علاقوں کی طرح جھنگ بھی متاثر ہوتا رہا۔

2744005887_8004ee0934

اس کے بعد انگریز پورے ہندوستان پر قابض ہوگئے اور جھنگ میں موجود تما م سکھ حکمران انگریزوں کی غلامی میں آگئے لیکن ہندوستان کی تقسیم کے وقت جھنگ پاکستان کے حصہ میں آگیا۔ اس وقت جھنگ پاکستان کا اہم تاریخی اور ثقافتی روایات کا حامل شہر ہے جھنگ اپنے کلچر، رسم ورواج اور رومانوی داستانوں کی وجہ سے بہت معروف شہر ہے جسے نے ہیر راجا اور مرزا صاحبہ کی رومانوی داستان کو جنم دیا۔ ہیر رانجھا کی کہانی متعدد مصنفین اور شعرا نے لکھی مگر اس پنجابی قصے کا مشہور ترین کلام حضرت وارث شاہ کا ہے جو کہ 1776 ء میں لکھا گیا۔ جھنگ کی آب وہوا شدید نوعیت کی ہے یعنی گرمیوں میں گرمی اور سردیوں میں سخت سردی پڑتی ہے جھنگ شہر کے گردونواح میں بہت زیادہ سرسبز کھیت ہیں نہری پانی کے بہترین نظام اور بارشوں کی مدد سے جھنگ میں کافی ساری فصلیں کاشت ہوتی ہیں جن میں گندم، کپاس، گنا، اور چاول وغیرہ قابل ذکر ہیں جھنگ کے غیر زرعی رقبہ پر نایاب جنگلات اور جھاڑیاں ہیں۔

جن میں ہرمل، جھنڈ، بوہٹر، کیکر اور دان کے درخت پائے جاتے ہیں جھنگ کے علاقائی کھیل پنجاب میں بہت مشہور ہیں ان کھیلوں میں گھڑ سواری، نیزہ بازی، کبڈی اور کشتی سرفہرست کھیل ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں شادی کی تقریبات اور ثقافتی میلے بھی شہرت کے حامل ہیں ان تقریبات میں سمی جھمر اور لوگ رقص جھنگ کی تہذیب وثقافت کا حصہ ہیں اس تاریخی اور ثقا فتی اہمیت کے حامل شہر کو جاگیرداروں، سیاستدانوں، اور حکمرانوں نے پسماندگی کی اس سٹیج پر پہنچا دیا ہے کہ دل اس کی حالت زار پر خون کے آنسو روتا ہے۔

جھنگ کی غربت اور پسماندگی
جھنگ صدیوں سے زرخیز دریائی علاقہ ہونے کے باوجود پسماندہ چلا آ رہا ہے اور آج جھنگ کا شمار پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے جھنگ میں آج بھی کوئی انڈسٹری نہیں، کوئی انجینئرنگ، میڈیکل یا زرعی کالج نہیں، پورے ضلع جھنگ میں تعلیم صحت اور روزگار نا گفتہ بہ ہے جھنگ جو حریت پسندوں، دانشمندوں، ساہنسدانوں اور انسانیت سے پیار محبت کرنے والے انسانوں کی سرزمین ہے کیلئے انگریزوں نے ایک ٹرم، جانگلی، استعمال کی۔

اگر جھنگ کے رہنے والے جانگلی ہیں تو پھر 29 جنوری 1926 ء کو پیدا ہو کر جھنگ کے ٹاٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والا ڈاکٹر عبدالسلام دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان کیسے بن گیا، جنہیں دنیا کی معروف 32 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری بھی دی۔ انگریز کی جھنگ سے کیا دشمنی تھی اس با ت کو جاننے کے لیے پس منظر میں جانا ضروری ہے لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جھنگ مخص ایک ضلع کا نام نہیں ایک خطے کا نام ہے جسے ساندل بار کہا جا تا ہے اس میں فیصل آباد، ٹوبہ، خانیوال، ساہیوال، لیہ، بھکر، شیخوپورہ کے علاقے آتے جھنگ دریائی سرزمین ہے اور اس خطے میں جہلم اور چناب بہتے ہیں جہلم اور چناب کی مٹی نے اس
خطے کو سرائیکی وسیب کا بہترین میدانی اور ثقافتی خطہ بنا دیا البتہ اس کا کچھ حصہ صحرائے تھل میں آجاتا ہے۔

جھنگ تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور انتظامی لحاظ سے ہمیشہ ملتان کا حصہ چلا آیا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ جھنگ قیام پاکستان کے کافی عرصہ بعد تک ملتان ڈویژن کا حصہ رہا اور یہ بھی بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جھنگ ہی وہ خطہ ہے جہاں انگریز کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنے ہوا اور اس دھرتی کے ہیر ورائے احمد خان کھرل نے بدیسی راج کے خلاف بگاوت کی اور بہت سے انگریزوں کو قتل کرنے کے ساتھ انگریز فوج کے اہم کمانڈر لیفٹنیٹ لارڈبرکلے کو بھی قتل کیا انگریز بھپر گئے اور احمد خان کھرل کی بگاوت کچل دینے کیلئے کمر بستہ ہو گئے انگریز نے جھنگ وسیب کی سول نافرنانی کا بدلہ اس طرح بھی لیا کہ جھنگ پر 1849 میں قبضہ کر کے اسے مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا اور سرکاری اصطلاح میں جھنگ والوں کو، جانگلی، کا نام دیدیا حریت پسندوں کے خاندانوں کو تعزیریں اور غداروں کو جاگیریں دیدیں۔

انگریزوں نے ساندل بار میں آبادکاری سکیم شروع کی اور مقامی گریب کاشتکاروں کی بجائے مشرقی پنجاب سے وفاداروں یا پھر اپنے صاحب حیثیت ایجنٹوں کو زمینیں دینا شروع کردیں جھنگ کی اہمیت ان کا کلچر اور جغرافیہ ختم کرنے کے لیے انگریز گورنر جیمز لائل نے 1895ء میں ایک نئی منڈی کی بنیاد رکھی۔ اس منڈی کو لائل پور کا نام دیا، ایک سال بعد 1896 ء میں اسے جھنگ کی تحصیل بنا دیا۔ لائل پور شہر کی اعلی پلاننگ مشہور زمانہ ٹائون پلانر سر گنگا ررام سے کرائی گئی گھنٹہ گھر سے کشادہ بازار، وسیع سٹرکیں اور اعلی ترین منڈی اور صنعت کاری کا ماحول، چار سال بعد 1900 ء میں لائل پور کو جھنگ سے الگ کر دیا گیا لائل پور تحصیل سے ضلع ڈویژن بنا دیا گیا اور اس طرح جھنگ کو اسی ڈویژن میں کرکے جھنگ کی پسماندگی پر مہر تصدیق مثبت کر دی گئی۔

آج جھنگ کے لوگ غربت اور افلاس کی وجہ سے فیصل آباد کی چار ہزار ٹیکسٹائل اور دوسری فیکٹریوں میں مزدوری کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ ان فیکٹریوں کو خام مال کپاس وغیرہ جھنگ اور سرائیکی وسیب کے دوسرے اضلاع دیتے ہیں جاگیرداری کا ذکر آیا ہے تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگریز نے اس علاقے پر جو جاگیردار مسلط کیے وہ دراصل علاقے کے چور اور ڈاکو تھے چونکہ ڈاکو کا کوئی کلچر نہیں ہوتا اس لیے جھنگ کے جاگیردارں اور سیاستدانوں نے ثقافتی طور بہت ہی رچ خطے کو، بے شناخت، کر دیا آج سوئززلینڈ اور اٹلی کی اعلی تعلیم یافتہ اور ہزاروں ایکڑوں کی مالکہ محترمہ عابدہ حسین بھی اپنے آپ کو، جانگلی، کہتی ہے سابق وفاقی وزیر خالد کھرلبھی اپنے آپ کو جانگلی کہتے ہیں یہی صورتحال دوسرے جاگیرداروں کی ہے کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ وہ دھرتی جہاں سولہویں صدی میں ہیر رانجھے کی لازول دستان رقم ہوئی جہاں ستارہیوں صدی میں عظیم سرائیکی شاعر سلطان العارفین حضرت سلطان باہونے 140 کتابیں تصنیف کیں جہاں حضرت شاہ جیونہ نے انسانیت کو محبت کا درس دیا چنیوٹ جہاں محبت کا ایک اور تاج محل، گلزار منزل، کے نام سے وجود میں آیا۔

جہاں کے ہنر مندوں کی کاریگری پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے جہاں کی شاعری لوک ادب، زبان وثقافت، مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے اسی جھنگ کو جانگلی بنا دیا گیا۔ لیکن چنیوٹ کو بھی جھنگ سے سیاستدانوں نے جدا کر دیا ہے انگریزوں نے جھنگ کو سزا اور فیصل آباد صلہ دیا۔ چلو کوئی بات نہیں بات پرانی ہوگئی لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج تو انگریز چلا گیا پھر آ سزا کیوں دی جارہی ہے سابق گورنر خالد مقبول جو جھنگ کے چنیوٹی شیخ تھے کی توجہ ہم نے ان مسائل کی طرمبزول کرائی تھی انہوں نے بھی اپنی دھرتی اور اپنے خطے کے لیے کچھ نہ کیا سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی جن کا جھنگ وسیب سے بہت قریبی تعلق ہے اور وہ اس خطے کیتاریخ ثقافت سے پوری طرح آگاہ ہیں وہ جھنگ کو ترقیاتی پیکیج جس میں سلطان باہو یونیورسٹی، انجنیئرنگ، و میڈیکل کالج، ٹیکس فری زون، صنعتی ایریا کے اعلاوہ جھنگ ڈویژن کا اعلان نہ کر سکے مو جودہ وزیراعظم اپیل ہے کہ وہ مذکورہ ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں چینوٹ اور ٹوبہ کو اس میں شا مل کریں قبل اسکے جھنگ اور پورے سرائیکی وسیب، ساوی گھوڑی آلے، یعنی سبز گھوڑی والے ایک اور احمد خان کھرل کی راہ دیکھنی پڑ جائے۔

DCO Jhang talking about mai heer stadium

Chief Meteorologist India at Govt. College Jhang

« Older Entries